Ghayal Episodc Novel — Episode No 04(Last Episode)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
953 Views
Episode No 04(Last Episode)
گھائل از ہماقریشی قسط نمبر 04 ’’بابا ! بابا!‘‘چار سالہ ہادیہ پورے گھر میں بھاگتی اب دوڑتی دوڑتی باپ کے پاس آئی تھی۔جو بالکنی میں کھڑا کسی سے محو گفتگو تھا۔۔ ’’ارے کیا ہوا میری گڑیا کو۔‘‘اس نے فوراً اسے گود میں اُٹھایا تھا۔۔جو اسکی گردن میں چہرہ چھپا گئی تھی۔۔ ’’یزدان دیکھ لیں اپنی بیٹی کو۔۔یہ مجھے کتنا تنگ کر رہی ہے۔۔‘‘پیچھے پیچھے آتی تمکنت کو بھی اس نے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔جو اپنے وجود کو بمشکل سنبھالتی گہرے سانس لے رہی تھی۔ ’’آرام سے یار! کچھ تو اپنی حالت کا خیال کرو۔۔۔وہ تو بچی ہے۔تمھارا اس طرح سے اسکے پیچھے بھاگنا بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔۔‘‘اب اسکے لہجے میں فکر سمٹ آئی تھی۔۔ چار سال پہلے اللہ نے ا نھیں بیٹی کی رحمت سے نوازہ تھا،اور اب وہ نعمت کے ماں،باپ بننے والے تھےْ۔ ’’ہاں تو آپ دیکھیں اس کو۔۔۔پہلے صبح صبح میرا سارا میک اپ خراب کیا۔۔اور اب کچن میں پانی پانی پھینک دیا۔۔آگر میں بے دھیانی میں پھسل جاتی تو۔۔‘‘اس نے ذرا غصےٰ سے شکایت لگائی۔ ’’ڈول یہ کیا کہہ رہی ہیں مما۔۔۔‘‘اس بار اس نے بیٹی کو دیکھا جو معصوم سا منہ بنائے کھڑی تھی۔ ’’بابا ماما مجھے نوڈلز بنا کر نہیں دے رہیں۔۔‘‘اس نے معصوم سا منہ بنایا۔۔جبکہ وہ اسے مسلسل گھور رہی تھی۔ ’’وہ آپ کی صحت کے لئے بالکل اچھے نہیں ہیں۔۔اور آپ کو کہا ہے نا کہ مما کا خیال رکھا کریں۔۔ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔پھر آپ ماما کو پریشان کیوں کرتی ہیں۔‘‘اب وہ سنجیدگی سے مخاطب تھا۔ ’’سوری۔۔‘‘اس نے منہ لٹکایا۔۔بھلا وہ باپ کو کیسے ناراض کر سکتی ہے۔۔ ’’اب ماما کو پریشان نہیں کرنا۔۔اور پانی فرش پر نہیں گراتے میری جان۔۔اس طرح چوٹ لگ جاتی ہے۔۔‘‘وہ سر ہلا گئی۔ ’’اب آپ جائیں اور دیکھیں ارمان بھائی اور شامیر بھائی کیا کر رہے ہیں۔۔آپ بھی ان کے ساتھ جاکر کھیلو۔۔‘‘بارہ سالہ شامیر اور ارمان کی اپنی ننھی پری میں جان بستی تھی۔۔جو شیطان کی بھی نانی تھی۔۔ ’’بھائی پڑھ رہے ہیں تو انھیں تنگ مت کرنا۔۔‘‘اس نے تنبیہ ضروری سمجھی۔اور خود بھی قدم اس کے پیچھے بڑھائے تھے۔ ’’آپ کہاں جا رہی ہیں میڈم۔۔‘‘وہ اسکے کندھوں کے گرد حصار بناتا روم میں لایا تھا اور سکون سے بیڈ پر بیٹھایا تھا۔۔جس کا ابھی بھی سانس پھولا ہوا تھا۔ ’’اللہ کو مانو یار۔۔۔ دیکھو سانس کیسے پھول رہی ہے۔۔کچھ رحم کرو مجھ پر۔اس طرح بھاگ دوڑ نہ کیا کرو۔۔میرا دل حلق میں آجاتا ہے۔۔‘‘اس کے لئے گلاس سے پانی نکالتا وہ پریشان کن لہجے میں بولا،تو وہ مسکرا کر ذرا سی اٹھتی اسکے سینے سے لگی تھی۔ ’’اپنی بیٹی کو سمجھائیں ذرا۔۔مجھے تنگ کم کیا کرے۔۔‘‘وہ لاڈ سے اس کے سینے سے لگی تھی۔ ’’ابھی کچھ دنوں میں دوسرا آجائے گا۔ذمہ داری بڑھ جائے گی ،پھر کیسے سنبھالوگی دونوں کو۔۔اسی لئے کہہ رہا تھا کہ بس ہمارے لئے ارمان ،شامیر اور ایک بیٹی ہی بہت ہے۔‘‘اس بار وہ ذرا ناک چڑھا کر بولا تو اس نے گردن اٹھا کر گھورا تھا۔ ’’ہاں بس آپ کی لاڈلی بہت ہے۔میرا بیٹا ہے یہ۔۔اور دیکھئے گا یہ میرا کتنا فرمابردار ہوگا۔‘‘وہ ذرا فخر سے بولی تو وہ اسکے چہرے پر جھکتا بولتی بند کر گیا تھا۔۔ ’’تھینک یو۔۔مجھے اتنی پیاری سی فیملی دینے کے لئے۔۔میرے دونوں بچوں کو اپنی اولاد سمجھنے کے لئے۔‘‘وہ محبت سے بول رہا تھا۔ ’’یزدان ایسے مت بولا کریں ،وہ دونوں میرے لئے ہادیہ سے بڑھ کر ہیں۔‘‘ اس نے ذرا خفگ ی سے کہا۔۔ ’’جانتا ہوں میری جان۔۔یہ بتاؤ اب ہنی مون پر کب جانا ہے۔۔‘‘اس نے شرارت سے ہمیشہ والا سوال پوچھا تھا۔۔زمہ داریوں اور بچوں کی زمہ داری کی وجہ سے و ہ دونوں کہیں جا ہی نہیں سکے تھے،البتہ وہ بچوں کے ساتھ ہر سال ویکشنز پر ضرور جاتے تھے،مگر یزدان اس کے ساتھ کچھ وقت اکیلے گزارنا چاہتا تھا۔۔ ’’جب آپ کے چاروں بچے شادی شدہ بال،بچوں والے ہوجائیں گے تو پھر ہم بھی آرام سے ہنی مون پر چلے جائیں گے۔۔‘‘وہ مزے سے بولی تو اسکا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔ ’’نہیں بھئی میں اتنا ویٹ نہیں کر سکتا۔۔ہم نیکسٹ ائیر ہنی مون پر جائیں گے۔‘‘اس نے جان کر چھیڑا۔ ’’ٓور بچے؟‘‘اس نے حیرت سے پوچھا۔ ’’یہ اپنے دادو کے پاس رہیں گے۔‘‘ ’’ارمان اور شامیر تو پھر بھی ٹھہر جائیں گے۔۔ہادیہ اور یہ نئے صاحب جو آنے والے ہیں ڈیڈ انھیں کیسے سنبھالیں گے۔‘‘اس نے خشمگیں نگاہوں سے گھورا تھا۔ ’’ بھئی اپنی ڈول کو چھوڑ کر تو میں کہیں بھی نہیں جاؤنگا، البتہ تم اپنے بیٹے کا خود انتظام کر لینا۔میں کباب میں ہڈی بالکل افورڈ نہیں کر سکتا۔‘‘تمکنت نے منہ بنا کر گھورا تھا۔ ’’ بس پھر ڈن ہوگیا۔۔اگلے سال ہمارے چاروں بچے ہمارے ساتھ جائیں گے۔اور ہاں دونوں چھوٹوں کو سنبھالنے کی زمہ داری آپ کی۔۔۔‘‘وہ اسکے حصار سے نکلتی شرارت سے بولی۔۔ ’’نو۔۔۔۔۔‘‘وہ احتجاجً چلایا تھا،جبکہ وہ کھلکھلاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔وہ دونوں اپنی اس چھوٹی سی دنیا میں بے حد خوش اور مطمئن تھے۔۔۔ ختم شد۔۔
Comments
Leave a Comment
Rana Ahsan
Thu Apr 09 2026
Link please
Rana Ahsan
Thu Apr 09 2026
Link please
